Posts

ڈپریشن

 ﷽                     ڈپریشن، اسلام اور علاج        از قلم: ام محمد ؎اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اسلام ہماری ہر طرح کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کجا کہ اس کا تعلق ہماری زندگی کے شعبےسے ہو یا ہمیں پیش آنے والے مسائل  و بیماریوں سے ہو، اسلام  احسن طریقے سےہماری رہنمائی کرتا ہے۔اسلام ہی وہ دین ہے جو ہمیں  درپیش آنے والے مسائل سے پرہیز بتاتا ہے اور اگر ہماری غفلت یا   تقدیر  کے غالب ہونے کی وجہ سے ہم کسی پریشانی کا سامنا کرتےہیں تو اس کا حل بھی بتاتا ہے۔اسلام کے علاوہ ہم کوئی بھی طریقہ علاج اپنا لیں  اس میں ہمیں کم یا زیادہ مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلام ہی جس پر عمل پیرا ہونے سے ہمیں کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوسکتا الا یہ کہ حکمت الٰہی پوشیدہ ہو،جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: "یہ قرآن جو ہم  نازل کر رہے  ہے مومنوں کے لئے سراسر شفاء اور  رحمت ہے"۔(الاسرا#82) "آپ کہہ دی...

جادو یا نفسیاتی خلجان

 ﷽ جادو یا نفسیاتی خلجان؟؟؟ معزز قارئین! اگر ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں عجیب قسم کی بھاگم بھاگ اور افراتفری محسوس ہوتی ہے۔جو ہماری تیز رفتار زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہم نے اپنی رفتار کو قائم رکھنے کے لیے اپنی زندگی میں ناخالص(ملاوٹ زدہ) چیزیں شامل کر لی ہیں ۔اس  ملاوٹ زدہ  ماحول میں رہتے ہوئے ہمیں کوئی بھی چیز خالص  میسر نہیں ہوسکتی۔ خواہ اس کا تعلق ہم سے ، ہماری خوراک  سے ، یا پھر  ہمارے طریقہ علاج سے کیوں نہ ہو؟ جب احساس و اخلاص ہی ناپید ہوچکے ہوں تو مسیحا بھی کیا مسیحائی دکھائیں گے۔خواہ ان کا تعلق  جسمانی و نفسیاتی عوارض سے ہو یا  جادو جیسے قبیح امر سے ہو۔ معززین! کہا جاتا ہے کہ اگر مسئلے کی نوعیت سمجھ  آ جائے تو  اس کا حل تلاشنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔نفسیاتی عوارض(psychological disorder)اورجادو(magic/spell) میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے،جس کی وجہ سے  ہمیں مسئلے کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ تو اس کے لئے بھی مفکرین و علماء کرام نے کچھ معیار وضع کر دئیے ہیں۔  پہلے ہم ان دو نوں اصطلاحات کے بارے میں جان لیتے ہیں کہ ان...

مصیبت پریشانی آزمائش

  سوال: اگر مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ یہ مصیبت اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے یا اس کے درجات میں بلندی کیلیے ہے؟ جواب کا متن الحمد للہ. کتاب و سنت میں مصیبتوں اور پریشانیوں کے -اللہ  تعالی کی حکمت اور قضا و قدر کے علاوہ-دو براہ راست اسباب ہیں: 1- انسان کی طرف سے کیے جانے والے گناہ اور نافرمانیاں، چاہے یہ گناہ کفر کی حد تک ہوں یا پھر عام گناہوں یا کبیرہ گناہوں سے تعلق رکھتے ہوں، چنانچہ جزا اور فوری سزا کے طور پر اللہ تعالی کی طرف سے گناہ گار شخص کو مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: ( وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ ) ترجمہ: آپ کو کوئی بھی نقصان پہنچے تو یہ تمہاری اپنی وجہ سے ہے۔[النساء:79] مفسرین کہتے ہیں: یعنی: آپ کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: ( وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ) ترجمہ: اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اپنے اعمال  کی وجہ سے ہے، [حالانکہ] اللہ بہت سے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ [ الشورى:30 ] دیکھیں: "تفسیر القرآن ال...

صنفی امتیاز

آخر صنفی امیتاز/تعصب کیوں؟ از قلم : ا ٌمّ ِمحمد میں نے اپنے ارد گرد حالات کی تلخیوں کو جھیلتی بہت سی لڑکیوں کو دیکھا جو ناچار صنفی امتیاز کا شکار معلوم ہوتی تھیں۔ مخالف جنس کے لیے ان کے دلوں میں اتنی کڑواہٹ اور اتنی نفرت دیکھ کے مجھے خیال گزرا کہ اس پہ ضرور سوچوں گی ۔ اس کی وجوہات تک پہنچنے کی کوشش کروں گی۔ جتنا اور جیسے ہو سکا لکھوں گی۔ آتش نمرود اگرچہ چڑیا کی کوشش سے نہ بجھ سکی تھی مگر اس نے اپنی بساط بھر حصہ ڈال دیا تھا۔ میں نے ایسا موضوع لکھنے کے لیے چنا جس کا اگر ایک سرا ہاتھ آتا تو دوسرا چھوٹتا۔ ایسا بھی وقت آیا جب مجھے لگا میں نہیں لکھ سکتی مگر اللہ کا کرم ہوا آخر قلم چل ہی پڑا۔  اگرچہ میں کافی عرصے کی تگ و دو کے بعد  لکھنے کے قابل ہوئی۔ جس بات نے مجھے زیادہ اکسایا وہ چھوٹی بہن کی بات تھی۔ ایک دن میرے پاس آئی اور کہتی کہ بھائی اور بھابھی اپنی بیٹی کے رونے پہ اسے ڈانٹ کے چپ کرواتے ہیں یا کسی چیز کی فرمائش کرے تو اسے ویسے ٹرخا دیتے ہیں لیکن اس کا چھو ٹا بھائی اگر مانگے تو اسے فوراً پورا کر دیتے ہیں آپی ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ بیٹیوں سے ویسا سلوک کیوں نہیں کرتے جیسا بیٹوں سے ...

تربیت اولاد

 تربیت اولاد  تربیت اولاد پہ آپکو بہت سارا مواد پڑھنے کو ملے گا لیکن میں نے تھوڑا مختلف انداز اختیار کرنے کی کوشش کی ہے امید کرتی ہوں یہ آرٹیکل ہمیں ایک نئی سوچ ضرور دے گا ان شاءاللہ۔۔۔۔۔ دعاؤں کی طالب *ام محمد* بچے تو ماں باپ کے باغ کے پھول ہوتے ہیں۔ ان کی خوشبو میں ہی گھر مہکتے ہیں۔ بچوں کے وجود کے بنا گھر ویران دکھائی دیتے ہیں۔ بچوں کی کلکاریاں پریشانی گھٹاتی اور خوشی بڑھاتی ہیں۔ گویا بچے اللہ کی نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہیں۔دعا ہے کہ جن والدین کو ان خوبصورت پھولوں سے نوازا ہے ان کی مہک ہمیشہ برقرار رہےاور باعث تسکین بنی رہے آمین ۔ اور جو اس نعمت سے محروم ہیں اللہ انھیں صالح اولاد عطا فرمائے آمین  معزر قارئین! اگر آج کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں علم تو کافی مقدار میں ملے گا لیکن عملی جھلک شاذ و نادر ہی آنکھوں کو میسر آتی ہے۔خواہ وہ زندگی کا کوئی بھی پہلو کیوں نہ ہو ؟ اب یہاں بات ہو رہی ہے اولاد کی تربیت کی تو اس میں بھی ہمیں پڑھے لکھے والدین تو واسطہ پڑتا ہے لیکن ان کی تربیت بادی النظر ہی ہوتی ہے۔ہم نے کبھی سوال اٹھایا کہ آج کل ہمارا معاشرہ بے راہ روی کا شک...